6 ستمبر 2011 - 16:15

خطبہ اول

ابنا:   خطبہ اوّل

       بسمہ اللّٰہ الرحمٰن الرَّحیم۔

الحمد للّہ ربّ العالمین والصلاۃ و السلام علی سیدنا ونبیّنا ابی القاسم المصطفیٰ محمد و علی آلہ الاطیبین الاطہرین المنتجبین سیّما بقیّۃ اللہ فی الارضیّن۔
    میں آپ نماز گزار بہن بھائیوں اور امت مسلمہ کی خدمت میں عید سعید فطر کی تہنیت و تبریک پیش کرتا ہوں اوراس مبارک موقع پر خداکی بارگاہ میں دست دعا ہوں کہ ِاس شریف اور مبارک دن اپنی رحمت اور فضل و کرم کو تمام دنیا کے مسلمانوں کے شامل حال فرمائے ،اُن کی ماہ رمضان کی اطاعت و عبادات کو بہترین شکل میں قبول کرے اور اِس دن کو امت مسلمہ کےلئے حقیقی عید قرار دے۔
ماہ رمضان کے قیمتی نتائج!
    اِس ماہ مبارک رمضان میں بہت سے لوگوں کو اِس بات کی توفیق و سعادت حاصل ہوئی کہ اُنہوں نے بہت سے قیمتی نتائج کو حاصل کیا اور یہ ایسے نتائج ہیں جو آئندہ ماہ رمضان تک کے تمام عرصے بلکہ بعض مواقع پر اُن کی پوری عمر کے لیے برکت کا سبب ہوں گے ۔
    کچھ لوگوں نے قرآن سے اُنس والفت کا رشتہ جوڑا ،قرآنی تعلیمات سے بہرہ مند ہوئے اور اُن میں تدبر کیا ،کچھ لوگوں نے خداوند ِ عالم سے مناجات اور اُنس کو اپنے لیے انتخاب کیا اور اپنے قلوب کو نورانی بنایا ۔لوگوں نے روزہ رکھے اور اور روزوں کے ذریعے اپنے نفس میں ایک خاص قسم کی نورانیت و پاکیزگی پیداکی اور یہی نورانیت و پاکیزگی اُن کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں بہت ہی برکتوں کا سبب بنے گی ۔
نفس کی پاکیزگی و نورانیت کا فائدہ!
    نفس کی یہ پاکیزگی و طہارت اور نورانیت 'انسان کو مثبت فکر اور نیک اندیشی عطاکرتی ہے اور حسد،بخل ،تکبر اور شہوت جیسی روحانی بیماریوں سے نفس کو پاک کرتی ہے۔انسان کے نفس میں نورانیت اور پاکیزگی کی پیداہونا معاشرے میں روحی اور معنوی امن وسکون کے اسباب کو مہیا کرتا ہے ،دلوں کو ایک دوسرے سے قریب کرتا ہے ،اہل ایمان کو ایک دوسرے کی نسبت مہربان بناتا ہے اور ایک باایمان معاشرے میں ایک دوسرے کےلئے رحمدلی کے جذبات کو وسعت بخشتا ہے ۔ یہ سب ماہ مبارک رمضان کے نتائج ہیں جو کامیاب اورسعادت لوگوں کے شامل حال ہوئے ہیں ۔
تقویٰ کا مقصداپنے نفس کو لگام دینا ہے !
    اِس خدائی مہینے کا ایک اور نتیجہ تقویٰ ہے کہ جس کے لیے سورہ بقرہ آیت 183میں ارشاد پاک ہے :''لعلّکم تَتَّقُوْنَ ''شایدتم متقی بنو !کسی شاعر کے بقول ''دستی کہ عنان خویش گیرد''یعنی جو ہاتھ اپنی لگام خود تھام لے ! تقویٰ کا معنی یہی ہے ۔کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان دوسروں کی لگام و مہار کو اپنے ہاتھوں میں لیتاہے لیکن اگر ہم اپنی لگام کو تھام سکیں ،اپنے آپ کو لگام دے کر مہار کرسکیں اور خود کو بدکنے اور خود کو خداوند عالم کے حرام کردہ کاموں کو انجام دینے اور حدود کو پامال کرنے سے روک سکیں تو یہ بہت بڑا ہنر ہے ۔
تقویٰ کا حقیقی مطلب!
    تقویٰ یعنی خدا کی قائم کردہ صراط مستقیم پر حرکت کرنے اور قدم اُٹھانے میں اپنی مراقبت ، تقویٰ یعنی علم و معرفت اور بصیرت کے حصول اور اِس علم و معرفت اور بصیرت کی روشنی میں قدم اُٹھانا ۔خوش بختی سے ہمارے معاشرے میں ایسے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے جنہوں نے اِن برکتوں کو کسب کیا ہے ۔مختلف مجالس ،تلاوت قرآن ،ذکرودعاؤں کی محفلوں اور شب قدر کے اعمال میں نوجوان مردو زن اور معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ ضیافت الٰہی کے اِس دستر خوان سے بہرہ مند ہوئے ۔
ماہ رمضان کے روحانی نتائج کی حفاظت کا عزم!
ایک زمانہ تھا کہ شاعر کہتا تھا :
دستی کہ عنان خویش گیرد؛    امروز در آستین کسی نیست
''وہ ہاتھ جو اپنی لگام خود تھامے ۔        یہ ہاتھ کسی آستین میں موجود نہیں ہے ''
    لیکن حقیقت یہ ہے کہ اپنی لگام کو تھامنے والے ہاتھ آج بہت زیادہ ہیں ۔ لیکن جو چیز یہاں بیان کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ہم ماہ رمضان کے اِن نتائج کی حفاظت کریں ،ماہ رمضان سے جو کچھ بھی حاصل کیا ہے اُسے محفوظ بنائیں اور اِس بات کا موقع نہ آنے دیں کہ گناہ کی بجلی' ماہ رمضان سے حاصل ہونے والے روحانی نتائج کی فصل کو جلا کر راکھ کردے۔ ہمیں چاہئے کہ راہ خدا ،خداکی جانب توجہ ،نفس کی نورانیت و پاکیزگی ،قرآن سے اُنس ،خدا سے درد دل کرنے اور دل کی باتیں کہنے اور خداوند عالم سے مسلسل رابطہ جوڑنے کے دروازے کو اپنے لیے کھلا رکھیں ۔ اگر آپ خداسے باتیں کریں گے تو خدابھی اُس کے جواب میںآپ سے باتیں کرے گا ۔''فَاذْکُرُوْنِیْ ۤ اَذْکُرْکُمْ''یعنی 'تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا۔
...........

/169-110